ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کشمیر اسمبلی کو تحلیل کرنا جمہوریت کا مذاق ، گورنر کی کارروائی کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیا جانا چاہئے ۔ ایم کے فیضی

کشمیر اسمبلی کو تحلیل کرنا جمہوریت کا مذاق ، گورنر کی کارروائی کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیا جانا چاہئے ۔ ایم کے فیضی

Fri, 23 Nov 2018 18:36:28    S.O. News Service

نئی دہلی23نومبر( پریس ریلیز؍ایس او نیوز)۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے جموں کشمیر میں گورنر کی جانب سے عجلت میں اسمبلی تحلیل کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی گورنر نے اس کے بات کا تعین کرے بغیر کے کہ کونسی اتحادی پارٹیوں کو ریاست میں نئی حکومت قائم کرنے کیلئے اکثریت حاصل ہے اسمبلی تحلیل کرکے غیر اخلاقی اقدام کا مظاہر ہ کیا ہے۔اس ضمن میں جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا ہے ایسا لگتا ہے کہ جموں کشمیر کے گورنر نے مرکزی بی جے پی حکومت کی ایماء پر کام کیا ہے کیونکہ یہ بات ظاہر تھی کہ جموں کشمیر میں بی جے پی کے بغیر ہی حکومت بنے گی۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ گورنر کا یہ کہنا کہ دو مختلف نظریات والی پارٹیاں مستحکم حکومت قائم نہیں کرسکتی یہ قابل قبول بات نہیں ہے۔ گورنر کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ یہ دیکھتے رہیں کہ دو مختلف نظریاتی پارٹیاں حکومت قائم کرنے کیلئے ہاتھ ملا رہی ہیں۔ اس بات سے سب واقف تھے کہ دو الگ نظریات والی پارٹیاں اپنے اختلافات کو پرے رکھ کر کشمیر کے عوام کے فلاح و بہبود کیلئے ایک دوسرے سے اتحاد کررہے ہیں۔ گورنرمسٹر ستیا پال ملک کو اس طرح کی غیر معمولی اور غیر جمہوری اتحاد کی بات اس وقت ذہن میں آئی ہے جب یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی اب اقتدار سے باہر ہوجائے گی۔ جموں کشمیر اسمبلی کو تحلیل کرکے گورنر نے زعفران بریگیڈ کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے پی ڈی پی سے کس بات پر اتحاد کیا تھا ؟۔کیا ایسا انہوں نے پاکستان کے حکم پر کیا تھا ؟۔ ایم کے فیضی نے رام مادھو کے بیان کو حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس نے پاکستان کے ہدایات پر عمل کرکے آپس میں ہاتھ ملایا ہے۔ عمر عبدا للہ کے سخت ردعمل اور ثبوت فراہم کرنے کے مطالبے کے بعد رام مادھو نے بڑی ہوشیاری سے اپنا بیان واپس لے لیا۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا کہ جموں کشمیر میں گورنر کی کارروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں اس طرح دوبارہ جمہوریت کا مذاق نہ اڑایا جاسکے۔


Share: